79

سابق دور حکومت میں پاکستان سٹیل کو 250 ارب کا خسارہ

سابقہ حکومت کے دور میں پاکستان سٹیل کے خسارے اور واجبات کی مالیت میں 250ارب روپے کا اضافہ ہوا، پلانٹ بند ہونے کی وجہ سے سٹیل مصنوعات کی درآمد پر بھی 2.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوا۔

پاکستان اسٹیل کو گیس کی فراہمی جون 2015 میں واجبات کی عدم ادائیگی پر بند کردی گئی، اس وقت پاکستان سٹیل پیداوار کے قابل تھا اور پلانٹ کو 40فیصد پیداواری گنجائش پر چلانے کا عملی مظاہرہ کیا جاچکا تھا۔ پاکستان سٹیل کو گیس کی سپلائی بند کر کے درحقیقت اس اہم ترین قومی اثاثے کی آکسیجن بند کردی گئی، 3 سال گزرنے کے باوجود پیداوار بحال نہیں ہوسکی۔

پاکستان اسٹیل کے ذرائع کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹر زکو ربڑ اسٹمپ سے زائد حیثیت نہیں دی گئی، مل کو چلانے کے لیے انتظامی صلاحیتوں سے عاری افراد کو ذمے داریاں سونپی جاتی رہیں، مل کے انتظامی امور ایڈہاک بنیادوں پر چلائے جاتے رہے، اس وقت بھی انتظامی اسٹرکچر ادھورا پڑا ہے. پاکستان اسٹیل سی ای او کے بغیر چلائی جا رہی ہے جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی 8آسامیاں خالی پڑی ہیں جبکہ 24 جنرل منیجرز میں سے صر ف 1جنرل منیجر موجود ہے، پاکستان اسٹیل کے موجودہ واجبات اور خسارے کی مالیت 450 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان سٹیل کے خسارے اور واجبات کی مالیت 200ارب روپے تھی جس میں ن لیگ کے دور حکومت میں مزید 250ارب روپے کا اضافہ ہوا، کسی قسم کی پیداوار کے بغیر پاکستان سٹیل ماہانہ 1ارب 70 کروڑ روپے نگل رہی ہے جس میں 80 کروڑ روپے واجبات پر سود کی مد میں ہر ماہ عائد ہورہے ہیں جبکہ تنخواہوں اور دیگر عمومی اخراجات کی مالیت بھی 90کروڑ روپے ماہانہ ہے۔

پاکستان سٹیل اسٹیک ہولڈرز گروپ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل بھی پاکستان اسٹیل کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اس اہم قومی اثاثے کو بوجھ میں تبدیل کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات اور شفاف احتسابی کارروائی کی اپیل کی تاہم حکومت کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں