67

فلسفہ صیام

قرآن حکیم کی سورۃ بقرہ کی آیت ١٨٣ میں روزے کا مقصد ”تقویٰ“ بیان ہوا ہے۔ اسی طرح صحیحین کی حدیث کے الفاظ ” ایمان اور احتساب “ بھی لگ بھگ تقویٰ ہی کا مفہوم ادا کرتے ہیں۔ تقویٰ کیا ہے؟ ایمان اور احتساب کے کیا معنی ہیں؟ اور پھر یہ کہ روزے کے ذریعے تقویٰ، ایمان اور احتساب جیسی صفات کا حصول کیونکر ممکن ہے؟ ان مسائل کی صحیح طور پر فہم تبھی ممکن ہے جب ہمیں روزے کی نفسی اہمیت کا اندازہ اور اس کی روحانی قدر و قیمت سے کم از کم کسی حد تک آگاہی ہو۔

بالخصوص ہم اُس تجربی عمل سے بھی آگاہ ہو جس سے روزہ ہمیں گزارنا چاہتا ہے۔وگرنہ، جیسے کہ عام مشاہدہ ہے، کہ ہمارے ہاں رائج قرآنی مطالب کی لغوی بحث و تکرار سے چند مزید الفاظ کی ایک لغت تو وجود میں آجاتی ہے لیکن دوسری طرف اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے ذہنوں سے اس عمل کی روحانی قدر و قیمت بھی رخصت ہو جاتی ہے، جو اس سارے عمل کا محور و مطلوب ہوتی ہے یا کم از کم ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں ؛ لفظی جمع و تفریق نہ صرف قرآن کی روح کے سراسر خلاف ہے بلکہ عملی طور پر مہلک بھی!شاید اسی حقیقت کی طرف شارہ کرتے ہوئے علامہ محمد اقبالؒ نے قرآن کی حقیقی روح کے متعلق فرمایا تھا۔ اقبال فرماتے ہیں کہ ؛ Quran is a book which emphasis “deed” rather than “idea”. اقبال کے نزدیک قرآن ایسی کتاب ہے جو ”تخیُّل“ سے زیادہہ ”عمل“ پر زور دیتی ہے۔ علامہ کے اس جملے کا مفہوم وہی ہے جس کی طرف ہم نے ماقبل میں اشارہ کیا اور وضاحت کی۔ مختصراً یہ کہ• ”عمل“ نفسی مظہر کا نام ہے جبکہ ”تخیُّل“ ذہنی جستجو کا! • ”عمل“ یقین کا ماحصل ہے جبکہ ”تخیُّل“ یقین کا تلاش کا! • ”عمل“ کا محرک نفسی ہے جبکہ ”تخیُّل“ کا محرک ذہنی! • ”عمل“میں یقین کا اہم کردار ہے جبکہ“تخیُّل ” میں الفاظ کا!اب اس مختصر پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یاد رکھیں انسانی وجود تین عناصر سے مل کرترکیب پایا ہے۔ یہ تین عناصر روح، ذہن اور جسم ہیں۔ان تین عناصر کی ہم آہنگ نمو پر انسانی وجود کی بقاء و ارتقاء کا انحصار ہے نیز ان تینوں کی احتیاجات بھی اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ مثلاً انسانی جسم کو صحتمند اور توانا رہنے کے لیے نہ صرف متناسب غذا کی حاجت ہوتی ہے بلکہ مرض کی صورت میں علاج اور دواء کی بھی ضرورت پڑھتی ہے۔ بالکل اسی طرح روح کا معاملہ بھی ہے۔ یعنی انسانی روح کو بھی اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف غذا کی حاجت رہتی ہے بلکہ بیماری کی صورت میں علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز کی بھی ضرورت پڑھتی ہے۔البتہ دونوں کی غذا اور طریقہ علاج میں ایک اہم فرق ضرور ہے، وہ یہ کہ جسم کو صحت اور امراض سے نجات کے لیے مادی غذا اور دواء کی ضرورت ہوتی ہوتی ہے جبکہ روح کو اسی مقصد کے لیے روحانی یا نفسی غذا اور دوا کی حاجت ہوتی ہے۔ روزے کا بنیادی مقصد نفس کو مغلوب کرنا اور روح کو تقویت پہنچانا ہے۔ جب روح جسم سے اتصال کے تعلق جڑتی ہے تو نفس وجود میں آتا ہے۔ نفس دراصل انسان کے باطن میں موجود برائی کا داخلی محرک ہے جو انسان کو ہر طرح کی معصیت، سرکشی اور بے اعتدالی پر اکساتا رہتا ہے۔جبکہ روح انسان کے باطن ہی میں موجود نیکی کا داخلی داعیہ ہے۔ روح انسان کو داخلی طور پر اطاعت، اخلاق اور روحانیت کی طرف ترغیب دلاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے باطن میں نیکی اور بدی کے دو باہم مخالف داعیے ہمہ وقت سرگرمِ عمل رہتے ہیں اور یہ کہ ان دونوں کے مابین انسانی ذہن کواپنے تابع کرنے کی جنگ ہر وقت جاری رہتی ہے،ہر ایک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کو شکست دے کر خود ذہن پر قابض ہو جائے اور خود فیصلے کی مسند پر براجمان ہو کر ذہن سے اپنی مرضی کے فیصلے صادر کروائے۔ روزہ ایک ایسا عمل ہے جو روح اور نفس کی اس باہمی کشمکش کے دوران روح کو سہارا دیتا ہے، اور نفس کی سرکرشی کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔روزہ نہ صرف روح کی غذا ہے بلکہ اسے کے کئ امراض کی تشخیص اور علاج بھی کرتا ہے۔ گویا روزہ نفس کو مغلوب اور روح کو غالب کرنے کے شعوری عمل کا نام ہے، جس کا مقصود انسان کو حیوانیت میں گرنے سے بچاکر اسے اخلاقی وجود کا پیکر بنانا ہے۔ اگر انسان روحانی طور پر توانا ہے تو اس کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق بھی اتنا مضبوط ہوتا ہے۔لہٰذا روزے کا مقصد انسان کو نفس کے چنگل سے چھڑا کر اسے اپنی روحانی اصل کے ساتھ جوڑ دینا ہے، جس سے اگر انسان قطع تعلق کر لے یا تو وہ جنسی حیوان بنتا ہے پھر معاشی حیوان!المختصر ماقبل سطور کی روشنی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ • انسان اگر نفس کا غلام بن جائے تو وہ حیوانیت سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ • اگر انسان نفس سے ایک درجہ چھٹکارا پا کر اپنے عمل کو عقل کے تابع کر لے توہ واقعی انسان بن جاتا ہے۔ • اور اگر انسان نفس سے مکمل آزادی حاصل کر لے اور اپنے عمل کو اپنی روحانی اصل کے تابع کر لے تو وہ انسانیت کی معراج کو پہنچ جاتا ہے۔لیکن روزے کے ذریعے یہ سب تبھی ممکن ہے جب بندہ ایمان کے ذریعے اپنے تعلق بااللہ کو پختہ کر لے،تقویٰ کے ذریعے اپنے ہر عمل کو شعوری طور انجام دے، یعنی ہر لمحہ محتاط رہے غفلت کا شکار نہ ہو اور احتساب کے ذریعے ہر وقت اپنے نفس پر کڑی نظر ڈالے رکھے اور اس کا محاسبہ کرتا رہے۔ روزے کا فلسفہ راقم کے نزدیک یہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں