94

پریشان مت ہو

ایک پروفیسر اپنی کلاس کو پڑھا رہا تھا کہ اس نے کلاس میں ایک لطیفہ سنایا اور سارے لڑکے ہنسنے لگ گئے۔ اس نے ایک بار پھر وہی لطیفہ دہرایا، اس بار بھی آدھے لڑکے پھر سے ہنسے۔ پروفیسر نے ایک تجربہ کرنے کی غرض سے ایک بار پھر سے لطیفہ سنایا، اس بار صرف دو سے چار لڑکے ہنسے۔ پروفیسر نے آخری بار وہی لطیفہ سنایا لیکن اب کی بار پوری کلاس میں مکمل سناٹا چھا گیا۔ وہ بولا کہ دیکھا ایک ہی لطیفہ ہم بار بار نہیں سن سکتے، اور ہم ایک ہی مسئلے پر بار بار سوچتے

ہیں اور اتنا پریشان ہوتے ہیں کہ اپنی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔کبھی سوچا ہے کہ یہ کتنی پڑی بے وقوفی ہے۔ کبھی بھی پریشان اور بے چین ہونے سے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے نہ ہوگا، اگر کسی بھی مصیبت سے نجات حاصل کرنی ہے تو کھلے دماغ سے سوچو۔ کامیابی کا راز صرف اور صرف مثبت سوچ ہے۔کسی بھی مشکل کو اپنے سر پر سوار کر کے کوئی انسان کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ کیوں خود کو اتنی فکروں میں ڈالا ہوا ہے، محنت کرو ، عبادت کرو اور باقی سب اپنے رب کے حوالے کر دو، جو ہوگا دیکھا جائے گا، کوئی بھی چیز اتنی اہم نہیں ہوتی کہ انسان اس کے لیے اپنی صحت گنوا بیٹھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں